16 October 2011

Sarkar Maroof Peer



بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی  رسولہ الکریم
افضل الذکرلا اله الا الله محمد رسول الله
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہُ

LA ILAHA ILLAL LAHU MOHAMMADOOR RASULLULLAHE (S.A.W)



Sarkar Maroof Peer
حضرت خواجہ شیخ محمد فاروق شاہ قادری الچشتی افتخاری معروؔف پیرعفی عنہُ


About us


بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی  رسولہ الکریم
افضل الذکرلا اله الا الله محمد رسول الله
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہُ

     پیار و محبت کے سلسلے کا نام "صوفی" ہے، جو سب سے پیار کرسکتا ہے اس کو "صوفی" کہتے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ "صوفی" کب سے ہے ؟ میں کہتا ہوں جب سے محبت ہے تب سے "صوفی" ہے۔ "صوفی" کوئی لمبا جبہ، لمبی ٹوپی پہننے والے کا نام نہیں ہے ۔ کوٹ پینٹ میں بھی "صوفی" ہوسکتا ہے ۔ "صوفی" دوسروں کو بدلنے کا نام نہیں بلکہ خود کو بدلنے کا نام ہے ۔
     "صوفی" کا پیغام محبت ہے ، انسانیت ہے ، اس کا پرچار کرنے نہ جانے کتنے ہی "صوفی " دنیا بھر میں موجود ہیں ۔ اس سلسلے کی ایک کڑی جو سرزمینِ بیجاپور میں ہے ، جس کو لوگ آج
"سرکارپیر عادلؔ بیجاپوریؒ" کے نام سے جانتے ہیں۔ جن کا مزارِ اقدس بیجاپورشریف  میں موجود ہے ان کے ہی جانشین خلیفہ ٔ معظم ‘‘حضرت خواجہ شیخ محمد عبد الرؤف شاہ قادری الچشتی افتخاری فہمی پیر’’ ہیں ۔ جنہوں نے نہ جانے کتنے ہی بجھے دلوں کو روشن کیا ، راہ سے بھٹکے لوگوں کو راہِ ہدایت بتائی۔ خودی اور خدا کسے کہتے ہیں سمجھایا۔
یہ بات سچ ہے کہ جب تک انسان خود سے پیار نہیں کرتا تب تک دوسروں سے پیار نہیں کرسکتا۔ خود سے پیار وہی کرسکتا ہے جو خود کو جانتا ہو، پہچانتا ہو۔

"قصۂ لا محدود کا مختصر فسانہ ہے
لامکاں ناپنے کا آدمی پیمانہ ہے"

     جو خود کو جانتا پہچانتا ہے وہی خدا کو جانتا پہچانتا ہے ۔ کیونکہ ‘‘ ہر بنی ہوئی چیز بنانے والے کا پتہ دیتی ہے’’ جو خدا کو جانتا ہے وہی مخلوق سے پیار کرسکتا ہے کیونکہ

"پہلا سبق ہے یہ کتاب ہدیٰ کا
تمام انسان کنبہ ہیں خدا کا"

     "صوفی"   کا پہلا سبق ہی پیار ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب بھی آپ کسی صوفی فقیر کی مزار پر جاتے  ہیں وہاں پھول ضرور ہوتےہیں کیوں ؟    
کیونکہ پھول محبت کا اِظہار ہے۔ پھول کی خوشبوکبھی یہ فرق نہیں کرتی کہ اِسکی خوشبو سےکون معطر ہو رہا ہے  پھول کا مذہب ہی  صوفی کا مذہب ہے۔
حضرت پیر فیمی محبت کہ باغ کہ وہ پھول ہیں جو کھلتے تو ہیں پر کھل کر مرجھا تے نہیں ہیں
دنیا اِن سے معطر ہوتی رہتی ہے۔ جس میں  محبت ہے وہ زندہ ہے جس میں محبت نہیں وہ مردہ ہے ہزاروں مردوں کو حیات جاویداں بخشنے کے لئے  حضرت پیر فہمی نے اپنی شاخیں نکالیں جس کی ہر شاخ پر پھول ہی پھول کھیلے اور ایک وقت ایسا  آیئے کہ یہ دنیا پیار و محبت سکون و امن کا باغیچہ نظر آیئے ۔             آمین


Tasawwuf Kya Hai ? / تصوف کیا ہے؟


بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی  رسولہ الکریم
افضل الذکرلا اله الا الله محمد رسول الله
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہُ


تصوف کیا ہے؟


جواب : تصوف کو لفظوں میں سمجھنا اور سمجھانا مشکل ہے ۔
"بقول حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز"

’’منہ سے کہیں شکر تو زباں کو نہیں مزہ
جس نے چکھا زبان پر لذت وہی لیا‘‘

ہم زبان سے لاکھ مرتبہ شکر شکر کہیں مگر ہمارے الفاظ شکر کے ذائقہ کی ترجمانی نہیں کرسکتے ۔ اگر کسی نے رنگوں کو نہ دیکھا ہو اور وہ تم سے پوچھے کہ رنگ کیا ہے تو تم کیسے بتائوگے اور کیسے سمجھائوگے۔ بہترین طریقہ یہی ہے کہ اس کو رنگ دکھا دو۔ وہ دیکھتے ہی سمجھ جائے گا کہ فلاں رنگ ایسا ہوتا ہے۔ الفاظ کسی بھی خوشبو کو سونگھا نہیں سکتے نہ بھیرویں راگنی سنا سکتے ہیں ۔ پس جب مادّی (پانچ)حواس خمسہ کے احساسات الفاظ میں بیان نہیں کئے جاسکتے تو قلب و روح کے لطیف احساسات جو سرمایہ تصوف ہیں کس طرح الفاظ کے دائرے میں لائے جاسکتے ہیں ۔ آدمی لاکھ تصوف کی کتابیں پڑھے اور زبان سے تصوف تصوف کہے جائے لیکن وہ تصوف ہر گز نہیں سمجھ سکتا۔
حضرت خواجہ غریب نواز فرماتے ہیں ’’
تصوف اسم نہیں رسم ہے ۔ اس میں ہمہ گری ہے ، ہر شئے کے عرفان سے خالق تک پہنچنے کا راستہ ہے۔’’
تصوف ایک حال ہے ، کیفیت ہے، وجدان ہے، طلب اس کی کنجی ہے، ذوق و شوق اس کی بقا ہے ، عشق و محبت اس کا رکنِ اعظم اور ذاتِ مطلق تک پہنچنے کا زینہ ہے، معرفت اس کی خصوصیت ہے، فنا فی الذات اس کا مقصد ہے اور بقا در بقا اس کا نتیجہ ہے۔
بزرگوں کے اقوال علمِ تصوف کو سمجھنے کے لئے کچھ حد تک مدد گار ہوسکتے ہیں ۔ مگر یہ بات آپ کے پیشِ نظر رہے کہ تصوف کی تعریف اور تفسیر کے بارے میں حضراتِ صوفیہ کے احکامات مختلف ہیں ۔ ان سب کا حاصل یہ ہے کہ تصوف کا مطلب ہے اخلاق کی اصلاح، باطن کی صفائی، صفاتِ کاملہ سے موصوف ہونا، اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے موصوف ہونا، راہ حق پر قائم رہنا، حقوق کا ادا کرنا، دل کو اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئےخاص کرنا، بے فائدہ کاموں سے پرہیز کرنا، تقویٰ کی پابندی کرنا۔
حضرت سید الطاہرین امام محمد باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
"تصوف اچھے اخلاق کا دوسرا نام ہے۔ جو اچھے اخلاق میں تجھ سے زیادہ ہے وہ تصوف میں زیادہ ہے۔"

حضرت معروف کرخی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
"تصوف ہر چیز کی حقیقت جاننے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مایوس ہونے کا نام ہے ۔"
حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
"تصوف یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو اللہ کے ساتھ اس طرح چھوڑ دے کہ وہ جو چاہے اس کے ساتھ کرے۔"
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
"اللہ کے ساتھ صدق اور اس کے بندوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا تصوف ہے۔"
حضرت ابو الحسن نوری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
"تصوف علم و فن کا نام نہیں ، مجموعہ ، اخلاق کا نام ہے ۔"
حضرت خواجہ بہا ئوالدین نقشبندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
"تصوف یہ ہے کہ اجمالی معاملہ تفصیلی ہوجائے اور استدلالی معاملہ کشفی ہوجائے ۔"
حضرت مجددِ الف ثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
"تصوف شریعت پر اخلاص سے عمل کرنے کا نام ہے ۔"
مولوی اشرف علی تھانوی نے فرمایا۔
"تصوف اپنے کو مٹادےنے کا نام ہے ۔"
حضرت سید افتخار علی وطن قبلہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔
" تصوف شریعت کا مغز ہےجو لوگ براہین و محبت سے تقریر کرتے ہیں اور خلاف شریعت مسائل توحید جانتے ہیں اور سمجھاتے ہیں وہ ملحد ہیں۔ تصوف وہ ہے جو واقعہ میں سالک معائنہ کرے۔ تجلیاتِ الٰہی کا اور واقعہ اس کو کہتے ہیں جو خواب و بیداری میں سالک پر ایک حال طاری ہوتا ہے کہ نہ وہ خواب ہے نہ بیداری ویسےشخص کو بیدار سمجھےکہ سویا ہوا شخص تصور کرے کہ بیدار ہے اور واقعہ کی نوعیت اور تعریف یہ ہے جیسے خام کہ وہ عین روز ہے نہ عین شب ، پس ایسے وقت و حالت میں سالک کو جو نظر آئے وہ تصوف ہے ۔"

Dawat-e-Fikr / دعوتِ فکر

دعوتِ فکر

یوں تو سیّد بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو ’’ صحیح ‘‘ مسلمان بھی ہو
(علامہ اقبالؔ )

آج دنیا کا اکثر کلمہ گو خود کو مسلمان ہونے کا دم بھر رہا ہے ۔ حتٰی کہ اس زعم باطلہ کے ثبوت کی خاطر خوں گیری پر آمدہ ہوچکا ہے ۔ اس لباس مسلمانی کے جُبَّہ و قُبَّہ میں ایسے لاتعداد ایمان خور شیاطین و منافقین و مشرقین پوشیدہ ہیں ۔ جنہیں کھلی آنکھ سے دیکھ کر بھی مومن و منافق کا پتہ نہیں چلتا ۔ مثلاً کسی برتن میں رکھے ہوئے پانی کو دیکھ کر کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ پانی میٹھا ہے یا کھارا ؟ ہرگز نہیں بتا سکتا جب تک اس پانی کو چکھ نہ لے ۔ ٹھیک اسی طرح سے لفظِ مسلمان میں افراق و امتیاز موجود ہے ۔ اس میں مومن و منافق پوشیدہ و مخفی ہیں۔حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز علیہ رحمہ فرماتے ہیں ۔

منہ سے کہیں شکر تو زباں کو نہیں مزہ
جس نے چکھا زبان پر لذَّت وہی لیا

پانی کی پہچان چکھنے سے ہوگی اور مومن کی پہچان تحقیق کلمہ سے ہوگی ۔ حالانکہ قرآن مجید نے فرقانِ حمید کی روشنی میں ان منافقین کے اس خیالِ باطلہ کی نفی کی بلکہ انھیں قلبی طور پر مریض ہونے کی سند بھی دی ۔ (ومن ۔۔۔۔۔۔ فی قلو بھم مرض)ترجمہ : اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں فریب دینا چاہتے ہیں اللہ اورایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو انھیں اس کا شعور نہیں ۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے۔(سورہ بقرہ آیت
۹۔۸)
اب سوال یہ ہے کہ ہم مومن و مسلم و منافق کس کو کہیں تو فقۂ اسلام نے اس مسئلہ کو دو خصوصیات میں درج فرمایا ۔
اول اقرار باللسان ۔ دوم تصدیق بالقلب ۔ جیسا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ ایمان دل کی تصدیق اور زبان کے اقرار کا نام ہے اور اعضاء کے اعمال نفس ایمان سے خارج ہے ہاں وہ ایمان میں کمال بڑھاتے ہیں اور حسن پیدا کرتے ہیں ۔ جو بھی کلمہ طیب کے ان دو مطالبات کو اچھی طرح پورا کرتا ہے ہم ان کو بلاشبہ ازروئے اسلام مومن و مسلم کہہ سکتے ہیں ۔ حالانکہ مومن و مسلم میں بھی زمین و آسمان کا فرق موجود ہے ۔ جیسا کہ سورۂ احزاب آیت ۳۵ میں مسلمان مرد اور مسلمان عورت ، مومن مرد اور مومن عورت کا الگ الگ ذکر کرکے دونوں میں فرق واضح کیا گیا کہ ایمان کا درجہ اسلام سے بڑھ کر ہے جیسا کہ قرآن و حدیث کے دیگر دلائل بھی اس پر دلالت کرتے ہیں بحرحال ‘میری تحریک کا مقصد ’’ دعوت فکر‘‘ ہے ۔ میں ان لوگوں کو دعوتِ فکر دے کر بیدار کرنا چاہتا ہوں جو محض زبانی جمع خرچ کو ایمان سمجھ کر جنت و حوروں کے خواب میں مبتلا ہیں ۔ میں ان لوگوں کو دعوتِ فکر دیتا ہوں ‘جو اپنی لاشعوری کے باعث قلبی امراض میں گرفتار ہیں ۔ میں ان لوگوں کو دعوت فکر دیتا ہوں ‘جو جکڑا لو مولویوں کے دامِ فریب میں نظر بند ہوکر ان کے نقشِ پا کو ذریعۂ نجات سمجھ کرکولو کے بیل کے مانند چل رہے ہیں ۔ خیر آمدم برسرِ مطلب ‘کلمہ طیبہ پڑھ کر سمجھنے اور سمجھ کر پڑھنے کے لئے پیش کیا گیا جس نے بھی ایک مرتبہ کلمہ طیبہ سمجھ کر پڑھا اس کے لئے کلمۂ طیب آنِ واحد میں’’ کلیدِ مغفرت ‘‘بن کر دروازۂ نجات کھول دیتا ہے ۔ جیسے حدیث پاک میں حضرت ابوبکر صدیقثسے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے پوچھاکہ ۔
مَانَجَا ۃُ ھٰذِا الْاَمْرِ ؟ فَقَالَ مَنْ قَبْلَ مِنِّی الکَلِمَۃَ اَلَّتِی عَرْضَتْھَا عَلٰی عَمِّیْ فَرَدَّھَا فَھِیَ لَہُ نَجَاۃٌ:۔ترجمہ : اس دین میں نجات کا خاص نقطہ کیا ہے ؟ تو آپؐ نے فرمایا جس نے میرا لایا ہوا کلمہ میری دعوت پر قبول کرلیا ۔ جو میں نے اپنے چچاپر پیش کیا تھایہی کلمہ اصل نقطۂ نجات ہے۔
(مسند امام احمد)

زباں سے کہہ بھی دیا لَا اِلٰہَ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
(علامہ اقبالؔ )

حدیث پاک : مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اَلْفَ مَرَّۃٍ اِلَّا بالَتَحْقِیْق فَھُوَ کافِرٌ۔ترجمہ :( جس نے کلمہ طیب کو بغیر تحقیق ہزار بار کہا وہ کافر ہے) بلا تحقیق تصدیق بالقلب ممکن نہیں اور بلا تصدیق زبانی اقرار سوائے دروغ گوئی کے کچھ بھی نہیں۔حضرت پیر عادل ؔ بیجا پوریؒ فرماتے ہیں۔
’’ تحقیق کر تصدیق کر کلمہ گوبن جائے گا۔‘‘
مثلاً اگر کسی جگہ کوئی حادثہ در پیش ہوجائے تو پولس والے آکر پہلے معاملے کی تحقیق کرتے ہیں پھر حادثے کی تصدیق کرتے ہیں پھر تھانے میں جاکر اس حادثے کی گواہی دیتے ہیں ۔
تحقیق کلمہ میں باریک نکتہ نفی و اثبات ہے ۔ جس میں دو کفر چار شرک چار توحید کے درجے پوشیدہ ہیں۔
حضور اکرم ﷺ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں مومن وہ نہیں جو مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور زبانی طور پر لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کہتے ہیں ۔ اے عمررضی اللہ عنہ ایسے کلمہ گو حقیقت سے بے بہرہ اور بے خبر ہیں ۔ یہ مومن نہیں ہیں بلکہ منافق ہیں کیونکہ زبان سے تو کلمہ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کا اقرار کرتے ہیں لیکن کلمہ کا اصل معنیٰ سے ناواقف ہیں ۔ انھیں خاک بھی پتہ نہیں ہے کہ کلمہ سے اصل مقصود کیا چیز ہے۔یعنی لا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ تو کہہ لیتے ہیں لیکن ان کو کیا خبر کہ نیست سے کیا مراد ہے اور ہست سے کیا ؟ایسا شکی طور پر کلمہ کہنا شرک ہے اور شرک شک عین کفر ہے ایسے کلمہ گو کافر کہلاتے ہیں کیونکہ انھیں یہ نہیں معلوم کہ کلمہ میں کس کی نفی مراد ہے اور (از گنج الاسرار خواجہ غریب نوازؒ ) کس کا اثبات ؟ 
اس لئے کلمہ طیبہ کے رشد و ہدایت کے واسطے پیر کامل کی اشد ضرورت ہے ۔ تاکہ وہ اپنے علم و عمل سے طالب کے شک و شبہات کی نفی کرکے باطنی قوت سے کلمہ کے عروج و نزول طے کراکے اس کو مجسَّم کلمہ بنا دے ۔ خیال رہے توحید کے بالمقابل شرک دستک دے رہا ہے ہر گناہ قابلِ عفو ہے سوائے شرک کے اِنَّ اللّٰہَ  لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہ وَیَغفِرُمَادُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَاء( سورۂ النساء آیت
۱۱۶) ترجمہ : یقیناًاللہ نہیں بخشے گا شرک کو اور بخش دے گا اس کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا۔

انجامِ سفر سو چاہی نہیں منزل پہ چراغاں کیا ہوگا
تحقیق نہیں تصدیق نہیں پھر کامل ایماں کیا ہوگا
(حضرت پیر عادل ؒ ؔ )

سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ اے طالب میں تجھ کو کلمہ طیبہ کی تعریف بتلاتا ہوں ، جاننا چاہئے کہ کلمہ طیبہ کی تہہ وصال ہے اور انتہا کلمہ طیبہ کی مشاہدہ الٰہی ہے ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ رسم کے مطابق کلمہ پڑھنے والے گو کلمہ کو نہیں جانتے ۔ گو وہ زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں ۔ مگر وہ کلمہ ان کے حلق کے اندر سے نیچے نہیں اترتا ہے۔بلکہ کلمہ زبانی اور ہے اور تصدیق اور ہے ۔ پس جس کسی کو کلمہ کی معرفت حاصل ہوگئی وہ صاحبِ معرفت الٰہی ہے اور اس کی روح زندہ اور اس کانفس فانی ہے ۔ پس جو عشاق ہیں ۔ وہی اس کلمہ کی تعریف کو جان سکتے ہیں ۔ اور اس کے ساتھ واصلِ حق ہوتے ہیں۔

ہم زمانے کو حقیقت کی ضیاء دیتے ہیں
قلبِ کافر کو مسلمان بنا دیتے ہیں
( حضرت پیر عادلؔ ؒ )

پیرِ کامل اہلِ دل ہوتا ہے اور دل والا ہی دل کی حقیقت سے آگاہی بخش سکتا ہے ۔ جس سے تصدیق بالقلب کی دولت نصیب ہوتی ہے ۔ واضح ہو قلب کے معنیٰ الٹنے اور بدلنے کے ہیں دل کو بھی قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ بائیں پہلو میں اُلٹا لٹکا ہوا ہے۔ جو مرکز حیات ہے ۔ خون کو تمام جسم میں پہنچانا اسی کے ذِمَّہ ہوتا ہے جسم میں سب سے پہلے جو شئے حرکت کرتی ہے وہ دل ہے اور آخر میں جو عضو غیر متحرک ہوتا ہے وہ دل ہے ۔
حضوراکرم ﷺ فرماتے ہیں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔ ایک ظاہری دوسرا باطنی ۔ اور قرآن کریم کے بھی معنیٰ کے دو پہلو ہیں ۔ ایک ظاہری معنیٰ دوسرا باطنی معنیٰ ۔ اس لحاظ سے قلب کے بھی دو پہلو ہیں ایک قلبِ ظاہری جو گوشت کالوتھڑا ہے جسے قلبِ مجازی سے تعبیر کیا گیا ۔ دوسرا قلبِ باطنی جو لطیفۂ ربَّانی جوہرِلاثانی ہے جسے قلبِ حقیقی کے نام سے موصوف کیا گیا ہے ۔ جو انسان کے ساتھ مخصوص ہے ۔ جس کی وجہ سے انسان تمام مخلوق میں افضل ہوا ۔ جس طرح گوشت کے لوتھڑے یعنی قلبِ مجازی کے ساتھ جان قائم ہے اسی طرح لطیفۂ ربَّانی یعنی قلبِ حقیقی کے ساتھ ایمان قائم ہے ۔ لہٰذا قلبِ حقیقی کے اعتبار سے بھی تین طرح کے قلب ہوتے ہیں۔
اول قلبِ مومن : مومن کا قلب جو صفاتُ اللہ اسمِ مومن کا مظہر ہوتا ہے۔
حضور اکرم ﷺکا ارشاد پاک ہے ۔ اللہ تعالیٰ مومن کے قلب کی طرف ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ نظرِ لطف و کرم فرماتا ہے ۔ ہر نظر میں ابتدا اور اعادہ فرماتا ہے ۔ نگاہِ لطف و کرم سے مراد ذکرِ قلبی لَااِلٰہَ اِلّااللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی توفیق عطا کرنا ہے ۔ جس کے سبب بندۂ مومن کا قلب زندہ و جاوید رہتا ہے۔

بغیر ذکرِ خدا دل نہیں زندہ رہتا
دلِ مردار کو ہر جاپہ پریشاں دیکھا
(حضرت پیر عادلؔ ؒ )

حضور اکرم ﷺفرماتے ہیں:۔قَلْبُ الْمُومِنْ اَصْبَعِیْنَ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ۔(مسلم شریف)ترجمہ : مومن کا قلب رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔دو انگلیوں کے معنی جلال و جمال ہیں کلمہ طیبہ کے دو جز ہیں۔ پہلا جُز تو حید لَااِلٰہَ اِلّااللّٰہُ جو جلال ہے دوسرا جز
رسالت مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ جو جمال ہے قلبِ مومن جلال وجمال کے درمیان رہنے کے باعث اس میں وسو سے شیطانی کا غلبہ کم حتی کہ نا‘ کے برابر اور الہا مِ رحمانی یعنی پاکیزہ خیالات کی کثرت زیادہ ہوتی ہے۔
دوسرا قلبِ مسلم : مسلم کا قلب تصدیقِ ایمان کی نعمت سے محروم ہوتا ہے۔
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں لائے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام لائے حالانکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔( سورۂ حجرات آیت
۱۴)
چونکہ بغیر تصدیق مسلم کا قلب غفلت کا محل بن جاتا ہے اس میں آہستہ آہستہ منافقت کا اندھیرا بڑھنے لگتا ہے جس کے باعث ان کے قلب میں وسوسے شیطانی کا غلبہ زیادہ و پاکیزہ خیالات کم ہوجاتے ہیں ۔ اگر اس مرض کا علاج کسی قابل طبیبِ روحانی سے کرالیا جائے تو صحت ہوجاتی ہے ورنہ یہ مرض بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ دل میں اچھے خیالات کا آنا ہی بند ہوجاتا ہے اور کبھی یہاں تک ترقی ہوجاتی ہے کہ برے کاموں کو اچھا اور اچھے کاموں کو برا سمجھنے لگتا ہے اور بدکاروں کو عزیز رکھنے اور نیکوں کا روں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ اسی کو دل کی موت کہا جاتا ہے ۔ بحرِ کیف ‘یہ ضرور ہے کہ مسلم کو ایمان کی پوری دولت سے مشرف ہونا آسان ہے کیونکہ اس نے ایمان کی پہلی شرط اقرار باللسان واحکامِ شریعت میں گامزن ہے اس لئے مسلم کو ایمان کی دوسری شرط تصدیق بالقلب جو ایمان کی جڑ واصل ہے پانا آسان ہے بشرط یہ کہ اس نعمت کو کسی رہبرِ کامل سے پائے خود جگالی نہ کرے۔

ہیچ مرد خود بخود شیخے نشد
ہیچ آہن خود بخود تیغ نشد
 ( (مولانا رومیؔ
 
ترجمہ : نہ کوئی لوہا خود بخود تلوار بن سکتا ہے نہ کوئی آدمی خود بخود درجۂ کمال کو پہنچ سکتا ہے۔
تیسرا قلبِ کافر :قلب کافر بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو نیک اعمال کرتا ہے مگر ایمان و اسلام کی دولت سے محروم ہے ۔ قرآن مجید انھیں کافروں کو دعوتِ ایمان دیتا ہے ۔ دوسرا کافر وہ قلبِ کافر ہے جو ایمان و اسلام کی نعمت سے محروم بھی ہے اور بداعمالیوں میں بھی پوری طر ح گھرا ہوا ہے ۔ اس کا مرض چوتھے درجہ تک پہنچ چکا ہے جس کا علاج نا ممکن ہے ۔ اس کا قلب پوری طرح سے مردار ہوچکا ہے ۔ ان کے دلوں پر اللہ کی مہر لگ چکی ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ اسَوَآء عَلَیْھِمْ ءَ اَنذَرتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنذِرْ ھُمْ لاَیُوْمِنُونَ ۔ خَتَمَ اللّٰہُ عَلیَ قُلُوْبِھمْ۔(سورۂ بقرہ آیت
۷۔۶)
ترجمہ : بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے انھیں برابر ہے چاہے تم انھیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ۔۔(سورۂ بقرہ آیت
۷۔۶)

یہ نعمتِ کلمہ پائے وہی تحریر ازل میں تھا جس کے
کہلائے وہی محبوبِ خدا یہ خاص ہے نعمت عام نہیں
( حضرت پیر عادلؔ ؒ )

حاصلِ کلام : دل اللہ کا فضل ہے جو کہ ہر انسان کو ہدایت پر رہنے اور رب کو پہچاننے کے لئے عطا کیا گیا جو ذوق و شوق اور کشف کا سرچشمہ ہے اور ایمان کے رہنے کی جگہ اور اس کا برتن ہے جب اس پر ہی کفر کی مہر لگ گئی اور کفر سے وہ اس قدر بھر گیا کہ اس میں ایمان کی جگہ ہی نہ رہی تو اب ان کے ایمان کی کیا امید۔ یاد رکھوجن کے دلوں پر مہرِ نبوت لَااِلٰہَ اِلّااللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ثبت نہیں ہے انھیں کے دلوں پر ختم اللہ علی قلوب بھم رقم کردی جاتی ہے۔

جن کے قلب پہ مہرِ نبوت ثبت ہے معروفؔ
یہ وہ سکے ہیں جو ہر دور میں درکار ہوتے ہیں

 
لہٰذا قابل اعتبار قلب ۔ قلبِ مومن ہی ہے جسے عرش اللہ ‘بیت اللہ کے خطاب سے نوازا گیا ہے ۔ قلبِ سلیم ،قلبِ شہید، قلبِ منیب ، قلبِ مومن کی ہی صفات کا نام ہے اگر مومنِ کا مل کسی مسئلہ میں چاہے تو وہ اپنے دل سے فتویٰ لے سکتا ہے ۔ ارشادخداوندی ہے ۔لایسعنی ارضی ولاسمائی ولکن یسعنی قلب عبدالمومن۔ ترجمہ: میری گنجائش نہ تو میری زمین رکھتی ہے اور نہ میرا آسمان ۔ ہاں میری گنجائش میرے بندۂ مومن کا قلب رکھتا ہے ۔(اس حدیث کو امام غزالی نے احیاء العلوم میں ذکر کیا ہے ۔ اور محدث ویلمی نے اسے مسند الفردوس میں بروایت انس بن مالکؓ ذکر کیا ہے۔ حافظ سیوطی نے الدررالمنتشرہ میں اس حدیث کی تخریج کی ہے۔
 مکتوبات امام ربانی جلد سوم مکتوب ۲۸۷ میں اس کو نقل کیا ہے۔)

زہے قسمت کہ اپنی دھڑکنوں کی ہم زباں سمجھے!
حقیقت میں وہ مومن ہے جو کلمۂ کا بیان سمجھے!
(حضر ت پیر عادلؒ ؔ)

قلب مومن کے اوصاف و حالات اس لئے پیش کئے گئے تانکہ تم اپنا اپنا معائنہ و محاسبہ کرسکو ۔ اگر قلبی حالات اس کے برخلاف ہیں تو جلد کسی زندہ دل پیر کی طرف دوڑو وقت کم اور کام زیادہ ہے۔
یاد رکھو‘ وہی بیج پھل دیتا ہے جو اچھی زمین میں صحیح حالت اور صحیح وقت پر بو دیا جائے پھراسے مناسب ہوا اور پانی ملتا رہے اور پھر زمینی و آسمانی آفات سے محفوظ رہے برسات میں چھت اور دیواروں میں بعض دانے اُگ جاتے ہیں مگر وہ پھل نہیں دے سکتے کیونکہ ان کی زمین درست نہیں ۔ اسی طرح کلمہ طیبہ جب ہی پھل دیگا جب دل کی زمین میں بویا جائے ۔ محبتِ الٰہی کا پانی پائے رحمتِ الٰہی کی ہوائیں لگیں مخالفتِ انبیاء و اولیاء کی آفات سے محفوظ رہے ۔ بنی اسرائیل کا تخمِ ایمان صرف زبان پر اُگا جس کا الٹا نتیجہ نکلا جس سے وہ اور زیادہ مردودہوگئے ۔ اگر کلمہ طیبہ کی صحیح کاشت ہوجائے تو ایسا پھل دیتا ہے۔ کہ’ سبحان اللہ ‘ ایک آن میں مردود کو مقبول بنا دیتا ہے ۔ خطاؤں کومٹا دیتا ہے ۔ رب کی عطائیں دلاتا ہے۔
ارشادِ خداوندی ہے ۔ترجمہ : کیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی کلمہ طیبہ کی جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم یعنی تحت الثریٰ میں اور شاخیں آسمانوں میں ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے ۔

( سورۂ ابراہیم آیت ۲۴۔ ۲۵)
کلمہ طیبہ کی جڑ مومن کے دل میں ہے اور شاخیں آسمانوں میں ۔ زندگی و مو ت ، قبر و حشر ، ہر جگہ پھل دیتا ہے ۔ اس درخت کے سائے میں عالم آرام کرتا ہے ۔ مخلوق اس بار دار درخت سے پھل کھاتی ہے یعنی فیض پاتی ہے۔